اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کے نمائشی مذاکرات عوامی مطالبات پر بحث کئے بغیر اختتام پذیر ہوگئے ہيں اور خلیفی خاندان کو ان مذاکرات سے کوئی فائدہ نہیں مل سکا ہے۔ یہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر اختتام پذیر ہوگئے ہیں گو کہ خلیفی حکومت نے اعلان کیا کہ اس کے بعد اراکین پارلیمان فلور پر عمومی مسائل بھی مورد بحث لاسکیں گے۔نام نہاد قومی مذاکرات کے ترجمان نے کہا عیسی عبدالرحمن نے کل شام کو مذاکرات کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا: اراکین پارلیمان کو پارلیمان فلور پر عمومی مسائل بھی مورد بحث لائے سکیں گے اور پارلیمان میں سوال اور جواب کے لئے سیشن کا اہتمام کیا جاسکے گا۔دریں اثناء اپوزیشن جماعتیں آل خلیفہ سے بالکل مایوس ہوگئی ہیں:راشد الراشد کا کہنا تھا کہ بحرینی عوام مجرم اور قابل نفرت حکومت کے ساتھ مذاکرات کے خلاف ہیں کیونکہ اس حکومت نے عوام کا قتل عام کیا ہے اور عوام کے مقدسات کی توہین کی ہے۔بیروت میں مقیم بحرینی سیاسی راہنما راشد الراشد نے آل خلیفہ خاندان سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے مطالبات تسلیم کرے، قیدیوں کو فوری طور پر رہا کردے اور ملک میں عدل پر اور فرقہ واریت سے آزاد قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ منظور کرے۔انھوں نے کہا کہ عوام نے خلیفی حکومت کے مذاکرات کی روش کی پہلے روز سے مخالفت کی ہے۔ادھر انقلاب 14 فروری کے ساتھ تعاون کے لئے تشکیل یافتہ کمیٹی نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مذاکرات کے بائیکاٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کا یہ اقدام اہم پیغام ہے اور عالمی برادری کو اس پیغام کا ادراک کرنا چاہئے اور وہ یہ کہ "بحرینی عوام مسائل یکا حل چاہتے ہیں لیکن آل خلیفہ حکومت موجودہ مسائل کا حل نہیں چاہتی۔محمد الموسوی نے آج العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: خلیفی حکومت نے مظاہرین کا قتل عام کرکے اپنے زوال کے اسباب خود ہی پیدا کئے ہیں اور مذاکرات کی ناکامی کا اہم ترین سبب یہ تھا کہ ان مذاکرات میں عوام کے بنیادی مسائل کو سراسر نظرانداز کیا گیا اور خلیفیوں نے صرف چند ہی اپوزیشن راہنماؤں مذاکرات کی دعوت دی اور اکثریت کو نظر انداز کیا۔انھوں نے کہا: آج بحرینی عوام کے مطالبات کی صدائے بازگشت بین الاقوامی اداروں اور فورموں میں سنائی جارہی ہے اور یورپی یونین نے زخمیوں کے علاج معالجے کی پاداش میں گرفتار ہونے والے ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر ایک بحرینی راہنما نے کہا ہے کہ خلیفی حکومت کے پاس عوامی مطالبات ماننے اور انقلابیوں کو مراعات دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔علی الفَرَج نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ آل خلیفہ حکومت کے ساتھ نام نہاد مذاکرات میں شمولیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور عوام اس قسم کے مذاکرت ہرگز تسلیم نہیں کریں گے چنانچہ آل خلیفہ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ عوام کو مراعات دے اور ان کے مطالبات تسلیم کرلے۔علی الفَرَج نے اتوار کے روز ٹی وی مکالمے میں کہا کہ خلیفی حکومت کی طرف سے شروع کئے جانے والے نام نہاد قومی مذاکرات میں شرکت کرنے والی اپوزیشن جماعتوں نے ان مذاکرات کے نتائج سے برائت و بیزاری کا اعلان کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے خلیفیوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے اور وہ کہ "ان کا یہ حربہ بھی شکست کھا گیا ہے"۔انھوں نے کہا: الوفاق کی طرف سے مذاکرات کے بائیکاٹ نے ان مذاکرات کو بے اعتبار کردیا۔انھوں نے کہا کہ اگر آل خلیفہ اپنے اس حربے کی ناکامی کے بعد عوام کے خلاف جبر و تشدد میں شدت لائے تو اس کو سخت اندرونی اور بیرونی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اندرونی طور پر اس کو شدید ترین احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے خلیفی بادشاہ کی طرف سے نام نہاد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیفی حکومت عوام کے لئے پرامن ماحول فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور عوام کو اس کمیٹی سے ملنے اور شکایت کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے مواقع فراہم نہیں کئے ہیں اور نہ ہی ابھی تک اس نام نہاد کمیٹی نے عوام کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا حال بھی مذاکرات سے مختلف نہیں ہوگا کیونکہ ابھی تک اس کمیٹی نے عملی میدان میں کوئی بھی اقدام نہیں کیا ہے۔یاد رہے کہ بیرون ملک مقیم بحرینی سیاستدانوں اور قانوندانوں نے بھرپور کوششیں کرکے بحرین کے آل خلیفہ خاندان کو کسی حدتک رسوا کیا تو نیوی پیلے نے آل خلیفہ خاندان کو بچانے کے لئے زبانی اعلان کیا کہ وہ بہت جلد ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بحرین روانہ کررہی ہیں تا کہ وہاں کی صحیح صورت حال معلوم ہوسکے۔نیوی پیلے نے اس بات کی اطلاع سب سے پہلے آل خلیفہ حکومت کو دی اور یوں آل خلیفہ نے تیاری کرکے کچھ ہی دن بعد اعلان کیا کہ بادشاہ نے اندرونی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم تشکیل دی ہے جو عوام کی شکایات کا ازالہ کرے گی۔نیوی پیلے تو پڑھی لکھی خاتون ہیں مجھ جیسا ان پڑھ شخص بھی سمجھتا ہے کہ خلیفی بادشاہ نے اپنے عوام کا قتل عام کیا ہے، انہیں ٹارچر کیا ہے، انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کررکھا ہے ان کی بے حرمتی کی ہے اور ان پر بیرونی افواج اور کرائے کے غنڈے مسلط کئے ہیں، ان کے سیاسی حقوق چھین لئے ہیں انہیں کام اور روزگار سے محروم کررکھا ہے اور ہر روز ہزاروں سعودیوں، شامیوں، اردنیوں، عراقی بعثیوں اور پاکستانیوں اور یمنیوں کو شہریت دے رہی ہے تا کہ اس طرح شیعہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ یہی حکومت اپنی تشکیل کردہ ٹیم کو اپنے خلاف تحقیقات کی اجازت دے؟ لیکن نیوی پیلے نے ان کی بات مان لی اور امریکی مفادات کے اس چھوٹے سے محافظ کے سامنے مسکرالیں اور عرض کیا "ٹھیک ہے بادشاہ سلامت؛ آپ جب خود اپنے خلاف تحقیقات کروانا چاہتے ہیں تو اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن کس کھیت کی مولی ہے؟ آپ اپنا کام اپنی مرضی کے مطابق کریں ہم بھی اپنی ٹیم بھجوانے کا وعدہ بھول جاتے ہیں اور وہ بھول گئیںنیوی پیلے بھول جانا چاہتی ہیں لیکن ہم انہیں یہ وعدہ نہیں بھولنے دیں گے اور ان کو ہزاروں لاکھوں ایمیل اور وال میسج دیں گے اور انہیں بحرین میں ایک غیر جانبدار ٹیم بھجوانے پر مجبور کریں گے یہ لیں آپ بھی کلک کریں اور پیغام دیں:
فیس بک پر نیوی پیلے کا ذاتی پیجCLICK
یا پھر ایمیل میسج روانہ کریں:
یا پھر ٹیلی فون کریں:
0041229179220
- دنیاکےانصاف پسندوں کامطالبہ: ہائی کمشنر CLICK ہیومین رائٹس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بحرین روانہ کرے
